برآمدات بڑھانے کے لۓ ملکی سطح پر تعلیم و تربیت اور ریسرچ کے شعبے میں توجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔ محمد علی شیخ

ملک پاکستان بے شمار وسائل سے مالامال ہے لیکن حکومتی اداروں کی عدم دلچسپی اور خاص توجہ نہ دینے کے باعث جن شعبوں میں ایکسپورٹس بڑھائی جاسکتی ہیں ان میں بھی کمی آرہی ہے۔ گزشتہ دنوں چائنہ نے مچھلی اسلۓ امپورٹ روک دی کیونکہ اسکو ایکسپورٹ کوالٹی کے تحت پیک نہیں کیا گیا تھا۔
اس صنعت پر حکومت کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس سے منسلک افراد کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم فشیریز میں ایکسپورٹ کو بڑھاسکیں۔

نہ صرف مچھلی بلکہ کئ ایک شعبوں میں ایکسپورٹ بڑھانے کی بہت گنجائش موجود ہے جس میں ماربل, پھل, سبزیاں, چاول اور معدنیات شامل ہیں۔
خوش قسمتی سے پاکستان کا بیلنس آف ٹریڈ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ریمیٹینسز کے طفیل کچھ بہتر ہے اور اس موقع کو غنیمت جان کر اپنی بھرپور توانائی ایکسپورٹ کو بڑھانے میں صرف کی جاۓ۔ تاکہ ملک کی معیشت مضبوط ہوسکے۔

اس سلسلے میں ریسرچ ورک ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی حکومت اس پر توجہ دینے سے قاصر ہے۔ اس ضمن میں یونیورسٹی کے طلباء کو خصوصی گرانٹ دی جاۓ اور ملکی سطح پر ریسرچ ورک کوفروغ دیا جاۓ۔
ان خیالات کا اظہار پاکستان فلاح پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے مقامی سطح پر کاروبار سے منسلک افراد سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا۔
دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک ریسرچ ورک میں انویسٹ کرتے ہیں اور اپنی آنیوالی نسلوں کو خوشحالی کی نوید سنا رہے ہیں۔ لیکن ہمارے حکمرانوں کی عدم توجہ تشویش کا باعث ہے۔